عارضی فالج (Sleep Paralysis)
"خواب کی حالت پیرالیسس" یا "نیند پریشانی" کہا جاتا ہے۔ یہ حالت عموماً سونے کے وقت ہوتی ہے جب آپ سو رہے ہوتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے جیسے آپ جاگ رہے ہیں لیکن آپ نہیں ہل سکتے ہیں۔ یہ حالت عموماً کچھ منٹوں سے چند گھنٹوں تک رہتی ہے
اسے آرضی فالج بھی کہتے ہے
عارضی فالج ایک خوفناک اور حیرت انگیز تجربہ ہے۔ جس میں انسان خود کو ہوش میں تو محسوس کرتا ہے مگر اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتا۔
عارضی فالج تب نمودار ہوتا ہے جب انسان ابھی سویا ہو یا نیند سے بیدار ہونے کے قریب ہو۔ عارضی فالج کے دوارن انسان کا دم گُھٹتا ہے اور سینے پر وزن محسوس ہوتا ہے۔ یہ حالت چند سیکنڈز سے چند منٹس تک ہو سکتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق صدمے، اضطراب اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے عارضی فالج ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ عاضی فالج تب ہوتا ہے جب انسان REM سائیکل ختم ہونے سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ REM نیند کی ایسی حالت ہے جس میں دماغ بہت فعال ہوتا ہے اور خواب بھی اسی حالت کے دوران آتے ہیں۔ REM کے دوران جسم کے مسلز بنیادی طور پر ریلیکس ہو جاتے ہیں اور کام کرنے کی صلاحت نہیں رکھتے تا کہ آپ اپنے خواب کے مطابق حرکت کرتے ہوئے خود کو نقصان نہ پہنچا لیں۔ عارضی فالج (سلیپ پیرالسز) تب ہوتا ہے جب ہمارا دماغ تو REM فیز سے باہر آ چکا ہوتا ہے لیکن جسم ابھی بھی اسی حالت میں ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے جسم کے پٹھے (مسلز) ابھی بھی غیر فعال ہوتے ہیں۔ اس دوران لوگ سحر انگیزی کی کیفیت سے گزرتے ہیں کیونکہ ہمارا دماغ ابھی بھی خواب کی سی حالت میں ہوتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ عارضی فالج کے دوران غیرمعمولی اور عجیب مخلوق کو دیکھتے ہیں۔ عارضی فالج میں انسان مختلف اقسام کے دھوکے میں آ جاتا ہے۔ ان میں سے ایک انٹروڈر فینومینن (intruder phenomenon) کہلاتا ہے جس میں انسان محسوس کرتا ہے کہ ان کے پاس کمرے میں کوئی ہے۔ جبکہ ایک دوسرے مظہر کو انکیوبس فینومینن (incubus phenomenon) کہتے ہیں جس میں انسان نیند کے دوران خود پر دباؤ محسوس کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 7.8 فیصد لوگ عارضی فالج کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ عارضی فالج کا شکار میں سے 28 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نیند کا سائیکل خراب کر رکھا ہے۔ جو نہ مخصوص وقت پر سوتے ہیں اور نہ ہی مخصوص وقت پر جاگتے ہیں۔ جبکہ 37 فیصد وہ لوگ ہیں جو ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ بیماری عام طور پر دس سے پچیس سال کی عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری جینیاتی بھی ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کو عموماً نارکولپسی سے جوڑا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حالت جس میں غنودگی چھائی رہتی ہے۔ بلکل سیدھا لیٹ کر سونے سے عارضی فالج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجوہات میں بے خوابی یا نیند میں بے قاعدگی بھی ہو سکتی ہیں۔ عارضی فالج کا کوئی خاص علاج تو نہیں ہے۔ مگر اس کی شدت میں اینٹی ڈیپریسینٹ ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ عارضی فالج پر قابو پانے میں مختلف قسم کی تھیراپیز بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
Comments
Post a Comment